میں ایک تیشہ بدست انساں

Aabid Jafri

میں ایک تیشہ بدست انساں

مجھے خرابوں کی جستجو ہے

مجھے پہاڑوں کی آرزو ہے

میں چاہتا ہوں کہ اس جہاں کے

تمام دکھڑے اکھاڑ پھینکوں

میں چاہتا ہوں کہ آنے والے نئے زمانے کی

ساری راہیں

ہری بھری ہوں

ہر اک شجر اک لباس پہنے

نئی وضع کا

ہر ایک گل پر شباب مہکے

نئی طرح کا

میں چاہتا ہوں کہ نسل انساں جو آ رہی ہے

قرار بانٹے

سکون بوئے تو پیار کاٹے

مگر مرے عہد کے یہ انساں

مرے مقابل کھڑے ہوئے ہیں

پہاڑ بن کر

میں اپنا تیشہ چلاؤں کس پر

انہی میں کوئی ہے میرا بھائی

کوئی چچا ہے

میں سوچتا ہوں

اٹھا کے تیشے کو اس زمیں پر

لکیر کھینچوں مصالحت کی

پھر اپنے حصہ کی سب زمیں پر

چلاؤں تیشہ

مگر خیالوں میں بات ٹھہری

مری زمیں کے تمام حصے

مرے ہی بچوں نے بیچ کھائے