مشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میں
R P Shokhمشکل میں رہا وہ بھی کہ تدبیر نہ تھا میں
میں خواب تو تھا اس کا پہ تعبیر نہ تھا میں
یوں بھی ہوا اس نے مجھے سجدوں سے نوازا
بد بختی سے جس شخص کی تقدیر نہ تھا میں
وہ چھوڑ گیا راہ میں یہ اس کی رضا تھی
ویسے بھی کسی پاؤں میں زنجیر نہ تھا میں
اس ذوق سخن نے کیا رسوائے زمانہ
پہلے تو ترے راز کی تشہیر نہ تھا میں
کرتا بھی تو کیسے مری پہچان زمانہ
دکھ ایسا تھا خود اپنی بھی تصویر نہ تھا میں