وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہے

R P Shokh

وہ نہیں بیچ تو یہ عمر رواں کہتی ہے

کیا چلوں جب کوئی محور سے علیحدہ کر دے

اب جو ٹوٹا ہوں تو اس آنکھ کا جادو سمجھا

وہ تو چنگاری بھی پتھر سے علیحدہ کر دے

کیا کہوں اس سے بچھڑنے کی اذیت کیا ہے

جیسے گردن ہی کوئی سر سے علیحدہ کر دے

ایک مدت سے غم دہر ہے اشکوں میں گھلا

آ کے یہ ریت سمندر سے علیحدہ کر دے

ایک مظلوم زمانہ ہوں میں بد بخت نہیں

غم دنیا کو مقدر سے علیحدہ کر دے

تنگ صحرا ہے جو اندر یہ طلب ہے اس کی

در و دیوار کو اب گھر سے علیحدہ کر دے

اسے دیکھوں کہ میں رنگوں کا وہ منظر دیکھوں

نگہ شوق اسے منظر سے علیحدہ کر دے