کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تک

R P Shokh

کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تک

سر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تک

اس کی عادت تھی مرے خون کو پانی کرنا

رنگ کیا کیا نہ اڑا آنکھ کے تر ہونے تک

اب دوا ہے نہ دعا ہے نہ مسیحا گویا

ہر خدائی تھی مرا خون جگر ہونے تک

عمر بھر پھر سے جدائی کو محبت کہنا

دیکھنا بھی ہے زمانے کی نظر ہونے تک

اپنی آہیں ہی سبک گام نہ ہونے دیں گی

پا بہ زنجیر چلو ختم سفر ہونے تک

شہر کا شہر ہوا اب تو تعاقب میں مرے

تیرا جادو بھی تھا مجھ خاک بسر ہونے تک

یہ تو میں تھا کہ تراشا ہے ہر اک زخم سے پھول

ہاتھ کٹ جاتے ہیں ناخن میں ہنر ہونے تک