یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھا
R P Shokhیہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھا
جو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھا
کہیں ملے تو کبھی عمر رفتہ سے پوچھوں
کہاں ہے آج ترا جس سے دوستانہ تھا
بنا کے اب مجھے ایندھن جلائے جاتا ہے
یہی تھی شاخ کبھی جس پہ آشیانہ تھا
کبھی جو زعم ہوا وقت رہ گیا پیچھے
نظر اٹھائی تو دیکھا وہی زمانہ تھا
کہاں تھی کوئی سماعت مکیں وہاں تو فقط
جبین سائی کی خاطر اک آستانہ تھا
کبھی غزال سی خوئے گریز ہی نہ گئی
تھی قربتیں تو بہت ایک شاخسانہ تھا