یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے

Aabid Jafri

یہی تو ایک شکایت سفر میں رہتی ہے

ہوائے گرد مسلسل نظر میں رہتی ہے

جزائے کاوش تعمیر یہ ملی ہے ہمیں

صدائے تیشہ سدا ساتھ گھر میں رہتی ہے

ہنر کسی میں ہو قسمت ہے اس کی در بدری

کہ آب و تاب گہر کب گہر میں رہتی ہے

سماعتوں کا پیمبر ہی بن سکے تو سنے

وہ داستاں جو لب چشم تر میں رہتی ہے

ہر ایک صبح پہ مقتل کا ہو رہا ہے گماں

نہ جانے کون سی سرخی خبر میں رہتی ہے