شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میں
R P Shokhشہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میں
صدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میں
پاؤں کی گرد ہو چکیں کتنی مسافتیں
اب بھی مگر وہ دورئ منزل ہے اور میں
سمجھوں اب اور کیا تجھے کافر ادا نظام
برسوں سے ایک وعدۂ باطل ہے اور میں
پوچھو پسند تو ہے وہی چشم نیم باز
ویسے ہر ایک گام پہ مقتل ہے اور میں