ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دی

R P Shokh

ماتھے پہ پڑی زلف گرہ گیر ہلا دی

کیوں تم نے دل خفتہ کی زنجیر ہلا دی

ویسے تو مرے عشق کا ہر نقش حسیں تھا

جب درد نے کھینچی تو یہ تصویر ہلا دی

خط بھیج دیا کاٹ کے پیمان ملاقات

یہ کون ہے جس نے تری تحریر ہلا دی

یوں ہی نہ سمجھ اہل محبت کے جنوں کو

کم بخت نے جب چاہا ہے تقدیر ہلا دی

وہ زلزلہ گو روز ہلا دیتا تھا دل کو

اس بار مگر ساری ہی تعمیر ہلا دی