فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں

Aabid Jafri

فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیں

دشت بے آب میں جو تخم ہنر رکھتے ہیں

ہر نئی بات بھلا دیتی ہے پہلے کا خیال

وہ تو اخبار ہیں بس تازہ خبر رکھتے ہیں

مٹ گیا رنگ تعلق تو یہ چہرے کے نقوش

ایک اک خط تأثر میں خبر رکھتے ہیں

ایسے لوگوں کا ملا ہم کو زمانہ جو لوگ

کور بینا ہیں مگر ہم پہ نظر رکھتے ہیں

کوئی آہٹ ہے نہ دستک کہ بچھڑ جائے سکوت

جن کو دیوار میسر ہو وہ در رکھتے ہیں

جب بھی آتی ہے کسی سمت سے مقتل کی ہوا

دھیان آتا ہے ابھی دوش پہ سر رکھتے ہیں