ہم کو جاناں اس نگری میں چلنا بھی دشوار ہوا
Aabid Jafriہم کو جاناں اس نگری میں چلنا بھی دشوار ہوا
لوگوں کا ہر سنگ ملامت اپنے لیے دیوار ہوا
دل کے سب دکھڑے دل میں ہیں پھر بھی انہیں یہ شکوہ ہے
چاک گریباں کیوں پھرتے ہو دامن کیوں ہے تار ہوا
صبح سے ہلکی ہلکی کسک تھی میٹھا میٹھا درد سا تھا
شام کا پہلا تارا ابھرا زخم جگر بیدار ہوا
خود کو ملامت کیوں کرتے ہو اپنے آپ سے شکوہ کیا
جان کے کب دھوکا کھایا ہے انجانے میں پیار ہوا
ہم کو خرد کی راہ دکھانے والے یہ کیوں بھول گئے
اپنے لیے اس راہ جنوں میں صحرا بھی گلزار ہوا