میں اجنبی رہا سب سے مگر سبھی میں رہا
Aabid Jafriمیں اجنبی رہا سب سے مگر سبھی میں رہا
یہ حوصلہ بھی یہاں پر کسی کسی میں رہا
قبائے عظمت انساں ملی فقیروں کو
فقیہ شہر تو کیا کیا نہ سروری میں رہا
کھنچا ہے زخم عداوت سے دوستی کا لہو
جسے عزیز رکھا جاں سے دشمنی میں رہا
چراغ رکھ دئے سورج کے سامنے لا کر
مگر وہ فرق نہ جانا جو روشنی میں رہا
زبان کھلتی تو ہوتا قدم قدم مقتل
سکوت خوف کی صورت گلی گلی میں رہا