یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے
Aabid Jafriیہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے
ابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہے
یہ ورثہ ہم سے نئی نسل کو کبھی نہ ملے
زباں ہمارے بزرگوں نے بے نوا دی ہے
خراج آرزوئے موسم بہار ہے یہ
لہو لہو جو مرے پیرہن کی وادی ہے
کوئی بھی گھر سے نہ نکلے چراغ دل لے کر
امیر شہر کی یہ شہر میں منادی ہے
ملی ہے یہ مہ و انجم سے دوستی کی سزا
کہ آفتاب نے بینائی تک جلا دی ہے
کہاں سے کاٹو گے کل تم مسرتیں عابدؔ
یہ فصل اشک جو ہر آنکھ میں اگا دی ہے