غم دیا ہے تو سوا حوصلۂ غم دینا
Aabid Jafriغم دیا ہے تو سوا حوصلۂ غم دینا
یہ تو اک آگ ہے پھر کیا اسے شبنم دینا
اب بھی سوئی ہوئی راتوں کی تھکن باقی ہے
خواب دینا ہوں ضروری تو ذرا کم دینا
وقت سے ہی مجھے امید مسیحائی کی تھی
وقت ہی بھول گیا زخم کو مرہم دینا
اس نے تعبیر کے سب بھید چھپائے ہم سے
جس نے سیکھا ہے ہمیں خواب کا عالم دینا