ہو رہا ہے وہی
Aabid Jafriہو رہا ہے وہی
جس کا اندیشہ ذہنوں میں پلتا رہا
غیر لوگوں کو اپنا بنانے کا فن
گل کھلا کر رہا
تم جو یوں
دشمن جاں ہمارے بنے تھے کہو
ہم نہ کہتے تھے یہ فیصلہ بھی تمہارا
ہمیں اپنی جانوں پہ سہنا پڑے گا
ہم نہ کہتے تھے اک دن یہ ہجرت کا دکھ
بن کے ناسور جسموں کو کھا جائے گا
ہم نہ کہتے تھے یہ سائباں عارضی ہے