گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے
Aabid Jafriگھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والے
کون سے دیس سے لائیں گے زمانے والے
دھوپ بخشی ہے تو پھر سایۂ دیوار بھی دے
لوگ سورج کو ہیں معبود بنانے والے
دل کو آمادۂ تجدید وفا کیسے کروں
رس رہے ہیں ابھی ناسور پرانے والے
یوں تو ملتے ہیں ہر اک جسم پہ بے داغ لباس
اٹھ گئے دل پہ مگر داغ اٹھانے والے
گھر میں گھر کی کوئی صورت تو نکالیں عابدؔ
آنے والے ہیں کبھی کے نہیں آنے والے