دل سے محرومیٔ احساس مٹانے کے لیے
Aabid Jafriدل سے محرومیٔ احساس مٹانے کے لیے
گل کھلے ہیں مرے زخموں کو دکھانے کے لیے
پھر سے آواز کے دریا میں مرے نام کی ناؤ
بادبانوں کو اٹھاتی ہے گرانے کے لیے
رات ڈھلتی ہے چلو ڈھونڈ کے جگنو لائیں
وعدۂ انجم و مہتاب نبھانے کے لیے
کچھ پرندے مرے آنگن میں اتر آئے ہیں
بال و پر تیز ہواؤں سے بچانے کے لیے
سر سے سورج تری چاہت کا ڈھلا ہے شاید
مجھ پہ ہر سایۂ دیوار گرانے کے لیے
اپنے جذبوں کو کوئی شکل نہ دینا عابدؔ
ورنہ صورت کو بھی ترسو گے دکھانے کے لیے