شکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں
Aabid Jafriشکوے ہمیں تو جہد مکرر کے نہیں ہیں
ہجرت ہوئی ہے یوں کہ کسی گھر کے نہیں ہیں
کس جرم میں یہ پہلو تہی ہم سے روا ہے
اے شیشۂ گرد ہم کوئی پتھر کے نہیں ہیں
سربستۂ زنجیر کیا ہم کو جنہوں نے
وہ لوگ اسی گھر کے ہیں باہر کے نہیں ہیں
کس درجہ مکرم ہیں مرے اشک نہ پوچھو
وہ دام ملے ہیں کہ جو گوہر کے نہیں ہیں
وہ درد سہا ہے کہ جو غیروں کا نہیں تھا
وہ زخم لگے ہیں کہ جو خنجر کے نہیں ہیں