کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے

R P Shokh

کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گے

آبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گے

مجھ سے یہ سوچ کے وہ میرا پتا پوچھے تھا

تنگ دستوں کے بھی گھر بار تو ہوتے ہوں گے

اس سے بچھڑا میں اندھیروں کا مکیں ہوں ورنہ

کوئی گھر ہو در و دیوار تو ہوتے ہوں گے

وہ جہاں بھی ہو اسے دیکھ کے اس شہر کے لوگ

کو بہ کو نقش بہ دیوار تو ہوتے ہوں گے

مرگ جو اپنی طرح کوئی وہاں ہو کہ نہ ہو

لوگ اسے دیکھ کے بیمار تو ہوتے ہوں گے

بے گنہ بھی تھا نہتھا بھی تھا میں اے قاتل

قتل کرنے کے بھی معیار تو ہوتے ہوں گے