بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا

Aabid Jafri

بصارتوں کو رہ شوق میں گنوا دیکھا

تجھے نہ دیکھا مگر ہاں یہ حادثہ دیکھا

وجود سونپ کے سب کچھ بچا لیا ہم نے

نہ آنکھ میں کوئی آنسو نہ سانحہ دیکھا

کتاب زیست بھی اپنی نہیں رہی کہ یہاں

ہر اک ورق پہ نیا ایک حاشیہ دیکھا

خلاف موج سمندر شناس بہہ نکلے

میں جس طرف گیا طوفان ہی اٹھا دیکھا