شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے
Aabid Jafriشب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہے
اس پہ آسیب نہیں ہے تو اثر کس کا ہے
ایسا سیلاب کہ جنگل کو بہا لے جائے
ایسے سیلاب میں بے برگ شجر کس کا ہے
انگلیوں میں اتر آئے ہیں بصارت کے رموز
تیرگی میں رہے مخفی یہ ہنر کس کا ہے
بے چراغی ہی رہی اپنے گھروں کی میراث
روشنی پوچھتی پھرتی ہے کہ در کس کا ہے
وہ مسافر تو گیا چھوڑ کے یادیں اپنی
کس کو بتلاؤں کہ یہ زاد سفر کس کا ہے
تم مری راہ سے ہو کر نہیں گزرے ہو تو پھر
نقش پا یہ طرف راہ گزر کس کا ہے
پھر سے مدہوش تمنا کے ہوئے ہوش بجا
ہم پہ عابدؔ یہ کرم بار دگر کس کا ہے