چاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی
Aabid Jafriچاروں طرف کچھ دیواریں سی رہتی ہیں آہوں میں لگی
میری مٹی تیرے گھر کی گہری بنیادوں میں لگی
چپ کی چادر اوڑھ تو لی ہے پاؤں چھپیں سر کھل چائے
محرومی کی دھوپ نہ جانے کب سے آوازوں میں لگی
ان سے ظلمت دشت مقدر اور سیاہ نہ ہو جائے
چھوڑ نہ دیتا چاند کرنیں تم اپنے خوابوں میں لگی
مجھ سے میرے اپنے لوگ بھی رہتے ہیں بیگانے سے
میرے نام کی کون سی تہمت ان کے اندازوں میں لگی
اس موسم میں ڈالی ڈالی برف کے اتنے پھول کھلے
رنگ و تپش سے محرومی کی شاخ مرے جذبوں میں لگی