کر چکا پھول میں جب سارے جہاں کے پتھر
Aabid Jafriکر چکا پھول میں جب سارے جہاں کے پتھر
آ پڑے سر پہ مرے جانے کہاں کے پتھر
ظرف دل میں نمی اشک حقیقت نہ رہی
اتنے بخشے ہمیں لوگوں نے گماں کے پتھر
پئے حق در پئے پیکار کوئی ملتا نہیں
بندھ گئے پاؤں سے کیا وحشت جاں کے پتھر
خاک میں مل گئے سب پھول سے لوگوں کے وجود
لگ گئے قبر پہ بس نام و نشاں کے پتھر
کو بہ کو ہو گئیں تعمیر عبادت گاہیں
جمع کرتے ہی رہے ہم تو مکاں کے پتھر
زندگی کے لیے گوہر وہی ٹھہرے عابدؔ
لوگ کہتے ہیں جنہیں فکر جواں کے پتھر