نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میں
R P Shokhنقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میں
درد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میں
اک جزیرہ ہوں تہ خون تمنا کب سے
پاؤں رکھنے کے لیے کچھ تو زمیں ہو مجھ میں
خون باقی ہے تو پھر زخم سے باہر آئے
رنگ دکھلائے جو اک بوند یقیں ہو مجھ میں
میں ترے غم کی امانت کو سنبھالے رکھوں
سانس کوئی تو مگر میرا امیں ہو مجھ میں
مجھ سلگتے ہوئے جنگل پہ ہے چڑھتی آندھی
لوٹ جائے جو بھی اب گوشہ نشیں ہو مجھ میں