کون تھا جو دست قاتل کے لئے تیار تھا
Aabid Jafriکون تھا جو دست قاتل کے لئے تیار تھا
ایک میں ہی بزم اہل خواب میں بیدار تھا
بھر لیے ہیں تیرگی سے گھر کی دیواروں کے گھاؤ
کیا نیا سورج ہمارے واسطے آزاد تھا
خشک نہروں سے صدائے تشنگی آتی رہی
اور سمندر موج بے آواز سے سرشار تھا
آ رہے تھے موسموں کے نام پھولوں کے پیام
تم نہ تھے تو موسم گل بھی نگہ میں خار تھا
دے دیا گھر کے چراغوں کو ہوا کی گود میں
لوگ کہتے تھے کہ اک سایہ پس دیوار تھا
اب بھی یوں لگتا ہے جیسے ہر خبر ہو آج کی
اس لئے برسوں پرانا میز پر اخبار تھا