Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تن سے جاں کا قدم نکلتا ہےاب کوئی دم میں دم نکلتا ہےمیر کلو عرش
  2. تھا نجم بخت تیرہ مقابل تمام راتآنکھوں تلے پھرا مرے قاتل تمام راتمیر کلو عرش
  3. خوں بہانے کا بہانہ ہے بھلا میرے بعدتین دن پان بھی کھانا نہ ذرا میرے بعدمیر کلو عرش
  4. درویش قید غم میں دل زار ہو گیاآزاد ہو گیا جو گرفتار ہو گیامیر کلو عرش
  5. دل آئنہ ہے جوہر عکس رو ہےیوں ہی تجھ سے میں ہوں یوں ہی مجھ میں تو ہےمیر کلو عرش
  6. رخ سے برقع جو الٹ دے وہ تو آفت ہو جائےقد کشی ہو تو نمودار قیامت ہو جائےمیر کلو عرش
  7. سن کے فرقت چپ ہوا ایسا کہ مردا ہو گیاپوچھتا ہے یار رو رو کر تجھے کیا ہو گیامیر کلو عرش
  8. شب ہجراں میں دم نکلتا ہےکب پیام وصال ٹلتا ہےمیر کلو عرش
  9. شہرت ہے میری سخن وری کیہندی میں ہے طرز فارسی کیمیر کلو عرش
  10. غم میں عہد شباب جاتا ہےآسماں خاک میں ملاتا ہےمیر کلو عرش
  11. کون آئے گا جو تو بے سر و ساماں ہوگاورنہ ہوگا تو نہ اندیشۂ درباں ہوگامیر کلو عرش
  12. کھلے گا ناخن شمشیر سے عقدہ مرے دل کاکسی قاتل سے ہے آسان ہونا میری مشکل کامیر کلو عرش
  13. گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کیاس دم تمہیں یاد ہے کسی کیمیر کلو عرش
  14. مجھ کو مسند پہ قلمداں بخشاشیر قالیں کو نیستاں بخشامیر کلو عرش
  15. موت اپنی جان اے دل گردش افلاک کوڈوبنے کا خوف ہے گرداب میں تیراک کومیر کلو عرش
  16. موسم گل میں نہیں عزت و شان واعظکون اس فصل میں سنتا ہے بیان واعظمیر کلو عرش
  17. نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتابرنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتامیر کلو عرش
  18. نہ جنوں جائے گا کبھی میرایار ہے غیرت پری میرامیر کلو عرش
  19. نہ گل نہ سرو میان بہار ہوتا ہےہماری خاک سے پیدا چنار ہوتا ہےمیر کلو عرش
  20. وفور ضعف سے دل یار پر نہیں آتاغم فراق میں جینا نظر نہیں آتامیر کلو عرش
  21. ہر غم میں کریم ہے ہمارااللہ رحیم ہے ہمارامیر کلو عرش
  22. ہم سے کرتا ہے عبث گفتار کجراست بازوں سے نہ ہو اے یار کجمیر کلو عرش
  23. ہے مرا تار نفس تار قفسرشتہ برپا ہوں گرفتار قفسمیر کلو عرش
  24. اثر ایسا ہے تپ غم میں دوا کا الٹانبض دیکھے تو ہو بیمار مسیحا الٹامیر کلو عرش
  25. میں دریائے قناعت آشنا ہوںمیں موج نشان بوریا ہوںمیر کلو عرش
  26. نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہےیہ دل کیا چیز ہے اب جان تک دینا گوارا ہےمیر کلو عرش
  27. اس وقت بارے کچھ تو کرم بخشی کیجئےگزرے ہم اور بات سے گالی ہی دیجئےمرزا جواں بخت جہاں دار
  28. اے ظالم ترے جب سے پالے پڑےہمیں اپنے جینے کے لالے پڑےمرزا جواں بخت جہاں دار
  29. تجھ بے وفا کی آہ کوئی چاہ کیا کرےدل تجھ کو دے کے تو ہی بتا آہ کیا کرےمرزا جواں بخت جہاں دار
  30. جس کو کہ دسترس ہوئی دامان یار تکگلشن میں دہر کے وہی پہنچا بہار تکمرزا جواں بخت جہاں دار
  31. جو کچھ کیا سو ہم نے کیا اپنی چاہ سےاب شکوہ کیجیے نہ کچھ اس رشک ماہ سےمرزا جواں بخت جہاں دار
  32. در پہ تیرے پکار کی فریادسمع تو نے نہ یار کی فریادمرزا جواں بخت جہاں دار
  33. دل پر خوں جو جام ہے میراخون شرب مدام ہے میرامرزا جواں بخت جہاں دار
  34. دل پرستار ہیں سب خلق کے مورت کی تریدیدہ ہیں قبلہ نما کعبۂ صورت کی تریمرزا جواں بخت جہاں دار
  35. دنیا میں کوئی دل کا خریدار نہ پایاسب دیکھے دل آزار ہی دل دار نہ پایامرزا جواں بخت جہاں دار
  36. دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھدل میں آیا خیال کچھ کا کچھمرزا جواں بخت جہاں دار
  37. دیکھو تو میرے نالہ و آہ و فغاں کی اوربان اس کڑک سے جاوے ہے کب آسماں کی اورمرزا جواں بخت جہاں دار
  38. سنتا نہیں کسو ہی کی وہ یار دیکھناکیجو نہ اس سے حال دل اظہار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
  39. سینۂ پر سوز یکسو چشم گریاں یک طرفدل بچے کیا یک طرف آتش ہے طوفاں یک طرفمرزا جواں بخت جہاں دار
  40. قسمت کو اپنے لکھے کے تئیں کون دھو سکےسب ہو سکے ولیک یہ اتنا نہ ہو سکےمرزا جواں بخت جہاں دار
  41. کل تک اس کی وہ مہربانی تھیآج دیکھا تو سرگرانی تھیمرزا جواں بخت جہاں دار
  42. کون سی بات تری ہم سے اٹھائی نہ گئیپر جفا جو تری یہ نت کی لڑائی نہ گئیمرزا جواں بخت جہاں دار
  43. کوئی کر سکتا ہے یارو جیسا میں نے کام کیایار کے ذمے دی کر نیکی اپنے تئیں بد نام کیامرزا جواں بخت جہاں دار
  44. مت بولیو تو اوس سے جہاں دارؔ دیکھناکھینچے ہوئے ہے آج وہ تلوار دیکھنامرزا جواں بخت جہاں دار
  45. مجھ سے عاشق کے تئیں مار کے کیا پاوے گامفت بدنامی تجھے ہووے گی پچھتاوے گامرزا جواں بخت جہاں دار
  46. میں تو سو بار ترے ملنے کو آیا تنہالیکن افسوس کبھی تجھ کو نہ پایا تنہامرزا جواں بخت جہاں دار
  47. نالہ جدھر میرا گزر کر گیاتیر سا ہر دل میں اثر کر گیامرزا جواں بخت جہاں دار
  48. یار جب ہم کنار ہووے گادل کو میرے قرار ہووے گامرزا جواں بخت جہاں دار
  49. یار کے بن بہار کیا کیجےگل نہ ہووے تو خار کیا کیجےمرزا جواں بخت جہاں دار
  50. یک دو جام اور بھی دے تو ساقینہ رہے دل میں آرزو ساقیمرزا جواں بخت جہاں دار