میں کس منزل پہ آ پہنچا

Aabid Jafri

میں کس منزل پہ آ پہنچا

یہاں تو چاندنی اوڑھے ہوئے

رستوں کا سناٹا

بہت ہی دور تک پھیلا ہوا ہے

مگر میں ذات کے گہرے قفس میں

نہ جانے کب سے قیدی ہوں خود اپنا

مرے ہاتھوں پہ یہ جو ریسماں ہے

گرہ میں اس کی آزادی کے پنچھی پھڑپھڑاتے تھے

مگر وہ بھی ہوئے بے دم

قفس کے در پہ بے مصرف خرد نے

کر لیا قبضہ

ہر اک دیوار حد آسماں معلوم ہوتی ہے

بہت اونچی فصیل ذات ہے اور شور گریہ ہے

میں اس سے بھاگ کر جاؤں کہاں پر

یہاں تو چاندنی اوڑھے ہوئے رستوں کا سناٹا

فصیل ذات کو دھمکا رہا ہے

کہیں روزن نہ ہو دیوار و در میں

یہ شور و غل کہیں باہر نہ جائے