درد کی آنچ میں جلتا ہے یہ گھر کیا کیجے
Aabid Jafriدرد کی آنچ میں جلتا ہے یہ گھر کیا کیجے
خواب ہوتی ہے تمنا کی سحر کیا کیجے
ہم بھی مانوس نہیں دل کے اندھیروں سے ابھی
طائر شب بھی ہے کھولے ہوئے پر کیا کیجے
دور منزل ہے کڑی دھوپ میں کرنا ہے سفر
کٹ گئے راہ میں جتنے تھے شجر کیا کیجے
وہ گئے وقت کی مانند نہ لوٹے گا کبھی
اب لٹا کر یہ وفاؤں کے گہر کیا کیجے
بے گواہی کے بھنور میں ہے مری ذات کہ اب
آنکھ کی جھیل بھی ہوتی نہیں تر کیا کیجے
بارش سنگ تو بے وجہ نہیں ہے عابدؔ
آ گیا مجھ کو وفاؤں کا ہنر کیا کیجے