اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے
Aabid Jafriاشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائے
کیوں یہ پندار وفا صورت گریہ جائے
جب سے دیکھے ہیں تری آنکھوں کے ساگر ہم نے
اک نئی آرزو ابھری ہے کہ ڈوبا جائے
میں سماعت میں سمیٹے ہوں ہزاروں دشنام
ضبط غم کا ہے یہ ارشاد نہ بولا جائے
ہم کو اس خواب محبت سے جگایا کس نے
نقش چہروں پہ عداوت کا نہ دیکھا جائے
زخم خوردہ نہ کہیں انگلیاں وحشت ہو جائیں
بربط دل کو کسی کے نہ یوں چھیڑا جائے
دل ہے مصلوب انا بام پہ سورج بھی نہیں
کس طرح گھر کے اندھیروں کو اجالا جائے
پاؤں جب خار مغیلاں سے ہیں چھلنی عابدؔ
کیوں نہ پھر آتش نمرود میں اترا جائے