Poetry
Poet
Meter
- تپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیںہم آگ اپنے ہی گھر کو لگا کے دیکھتے ہیںNabi Bakhsh Nayab
- جس کو وہ نقش پا نہیں ملتاذرہ بھی خاک کا نہیں ملتاNabi Bakhsh Nayab
- دیواں وفور غم سے مرا رہ گیا غلطمضموں غلط ردیف غلط قافیہ غلطNabi Bakhsh Nayab
- رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کرکون ہنستا ہے کسی کو غم میں گریاں دیکھ کرNabi Bakhsh Nayab
- سکھایا عقل نے برسوں ہمیں علم و ہنر سب کچھجو سوچا تو جنوں ہی تھا جنوں سے بیشتر سب کچھNabi Bakhsh Nayab
- سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھیکچھ ایسی ویسی محبت کی داستان نہ تھیNabi Bakhsh Nayab
- لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنےکس کی صورت پھرتی ہے یا رب نظر کے سامنےNabi Bakhsh Nayab
- وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگےمجنوں ہوں میں کیا جیب و گریباں مرے آگےNabi Bakhsh Nayab
- ہے غلط گر عشق ہے یاری کا نامعاشقی ہے دل کی بیماری کا نامNabi Bakhsh Nayab
- اک زمیں دوز آسماں ہوں میںہاں مری جان بے نشاں ہوں میںNadeem Sirsivi
- بیاض کہنہ میں جدت بھری تحریر رکھنی ہےپرانی نیام میں یعنی نئی شمشیر رکھنی ہےNadeem Sirsivi
- جب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحبمیری سانسوں کی لرزنے لگی ناؤ صاحبNadeem Sirsivi
- دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیاوہ پاگل پھر مرا ہو جائے گا کیاNadeem Sirsivi
- ریاضتوں کی تپش میں رہ کر پگھل رہا ہوںیہ بات سچ ہے میں دھیرے دھیرے بدل رہا ہوںNadeem Sirsivi
- زندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہیکوئی وقعت دل قاتل میں ہماری نہ رہیNadeem Sirsivi
- سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوںمیں ایک عمر سے اپنے خلاف جا رہا ہوںNadeem Sirsivi
- سرور سے اٹے ہوئے اے موسم وصال رکملے دریدہ قلب کو سکون اندمال رکNadeem Sirsivi
- شعور عشق ملے روئے دار رقص کروںہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروںNadeem Sirsivi
- عرصۂ خواب سے اٹھ حلقۂ تعبیر میں آگمشدہ رعب جنوں کاسۂ تشہیر میں آNadeem Sirsivi
- گرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گاابھی رستہ ہوں میں اک روز منزل ہو ہی جاؤں گاNadeem Sirsivi
- مستقل محو غم عہد گزشتہ ہوناایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہوناNadeem Sirsivi
- بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میںجس کے لئے آرام ہے آلام سفر میںNadim Balkhi
- تن بدن سے جان ہی تو صرف اڑا لے جائے گیزندگی سے موت آ کر اور کیا لے جائے گیNadim Balkhi
- دست خلوص جن کی طرف ہم بڑھا گئےخنجر بکف وہی صف قاتل میں آ گئےNadim Balkhi
- دل سرابوں سے گزر کر شاد رکھدشت میں دریا کا منظر یاد رکھNadim Balkhi
- دوست کوئی جو معتبر نہ رہااعتبار اپنے آپ پر نہ رہاNadim Balkhi
- دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوںانجام یہی ہوگا مرا سوچ رہا ہوںNadim Balkhi
- راہ جس نے چلی غافلوں کی طرحقتل بھی وہ ہوا بزدلوں کی طرحNadim Balkhi
- عقل پر اس کی گر پڑا پتھرجس نے پارس کو کہہ دیا پتھرNadim Balkhi
- مجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریاگیا قریب تو پایا سراب کا دریاNadim Balkhi
- ہم نے دیکھے عجب عجب گونگےتھی زباں تو مگر تھے سب گونگےNadim Balkhi
- وضع داری کو اوڑھ کر اکثرآدمی بے لباس لگتا ہےNadim Balkhi
- یاد جس کی لیے ہے دل نادمؔدور ہو کر بھی پاس لگتا ہےNadim Balkhi
- اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کاآج تک پاک ہے دامن مری بینائی کاQadr Oraizi
- تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربطمیری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربطQadr Oraizi
- جو چشم شوق کی حالت سے آشکار نہ تھاوہ انتظار بہ عنوان انتظار نہ تھاQadr Oraizi
- خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھااے شمع کچھ تو بول کبھی تو زباں اٹھاQadr Oraizi
- دست جنوں نے مجھ کو پریشاں بنا دیاجو چیز ہاتھ آئی گریباں بنا دیاQadr Oraizi
- رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیامنظر قوس قزح چاک گریباں ہو گیاQadr Oraizi
- ضبط کر آہ بار بار نہ کرغم الفت کو شرمسار نہ کرQadr Oraizi
- کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرضاے سبک روئی تجھے بار گراں سے کیا غرضQadr Oraizi
- کیوں خوش ہے اس کا خط جو ترے نام آ گیاکیا آسمان سے کوئی پیغام آ گیاQadr Oraizi
- مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کااندازہ مصیبت میں ہوتا ہے مصیبت کاQadr Oraizi
- وہ بظاہر کبھی عیاں نہ ہواپھر بھی مشتاق سے نہاں نہ ہواQadr Oraizi
- ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کاامکان مسلم ہے امکان محبت کاQadr Oraizi
- آتا نہیں ہے اب کسی دم ساز کا خیالدل میں بسا گیا وہ اس انداز کا خیالRabab Rashidi
- اپنی خوش ذوقی پہ اک الزام ہو کر رہ گئےنام والے تھے برائے نام ہو کر رہ گئےRabab Rashidi
- تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھیاپنے گھر جیسی تو صحرا میں بھی تنہائی نہ تھیRabab Rashidi
- تیز ہوائیں ہیں غم کیخیر مناؤ موسم کیRabab Rashidi
- جب بھی گزرے ہوئے لمحات کو دہراتے ہیںہم خود اپنے ہی خیالوں میں الجھ جاتے ہیںRabab Rashidi