Poetry

Poet
Meter
  1. تپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیںہم آگ اپنے ہی گھر کو لگا کے دیکھتے ہیںNabi Bakhsh Nayab
  2. جس کو وہ نقش پا نہیں ملتاذرہ بھی خاک کا نہیں ملتاNabi Bakhsh Nayab
  3. دیواں وفور غم سے مرا رہ گیا غلطمضموں غلط ردیف غلط قافیہ غلطNabi Bakhsh Nayab
  4. رحم کر ظالم مرا حال پریشاں دیکھ کرکون ہنستا ہے کسی کو غم میں گریاں دیکھ کرNabi Bakhsh Nayab
  5. سکھایا عقل نے برسوں ہمیں علم و ہنر سب کچھجو سوچا تو جنوں ہی تھا جنوں سے بیشتر سب کچھNabi Bakhsh Nayab
  6. سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھیکچھ ایسی ویسی محبت کی داستان نہ تھیNabi Bakhsh Nayab
  7. لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنےکس کی صورت پھرتی ہے یا رب نظر کے سامنےNabi Bakhsh Nayab
  8. وحشی ہوں میں کیا شے ہے بیاباں مرے آگےمجنوں ہوں میں کیا جیب و گریباں مرے آگےNabi Bakhsh Nayab
  9. ہے غلط گر عشق ہے یاری کا نامعاشقی ہے دل کی بیماری کا نامNabi Bakhsh Nayab
  10. اک زمیں دوز آسماں ہوں میںہاں مری جان بے نشاں ہوں میںNadeem Sirsivi
  11. بیاض کہنہ میں جدت بھری تحریر رکھنی ہےپرانی نیام میں یعنی نئی شمشیر رکھنی ہےNadeem Sirsivi
  12. جب بڑھا درد کی موجوں کا دباؤ صاحبمیری سانسوں کی لرزنے لگی ناؤ صاحبNadeem Sirsivi
  13. دوبارہ معجزہ ہو جائے گا کیاوہ پاگل پھر مرا ہو جائے گا کیاNadeem Sirsivi
  14. ریاضتوں کی تپش میں رہ کر پگھل رہا ہوںیہ بات سچ ہے میں دھیرے دھیرے بدل رہا ہوںNadeem Sirsivi
  15. زندہ رہنے کی طلب اس لیے پیاری نہ رہیکوئی وقعت دل قاتل میں ہماری نہ رہیNadeem Sirsivi
  16. سراب دل سے مسلسل فریب کھا رہا ہوںمیں ایک عمر سے اپنے خلاف جا رہا ہوںNadeem Sirsivi
  17. سرور سے اٹے ہوئے اے موسم وصال رکملے دریدہ قلب کو سکون اندمال رکNadeem Sirsivi
  18. شعور عشق ملے روئے دار رقص کروںہیں میرے پاس بہانے ہزار رقص کروںNadeem Sirsivi
  19. عرصۂ خواب سے اٹھ حلقۂ تعبیر میں آگمشدہ رعب جنوں کاسۂ تشہیر میں آNadeem Sirsivi
  20. گرفت کرب سے آزاد اے دل ہو ہی جاؤں گاابھی رستہ ہوں میں اک روز منزل ہو ہی جاؤں گاNadeem Sirsivi
  21. مستقل محو غم عہد گزشتہ ہوناایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہوناNadeem Sirsivi
  22. بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میںجس کے لئے آرام ہے آلام سفر میںNadim Balkhi
  23. تن بدن سے جان ہی تو صرف اڑا لے جائے گیزندگی سے موت آ کر اور کیا لے جائے گیNadim Balkhi
  24. دست خلوص جن کی طرف ہم بڑھا گئےخنجر بکف وہی صف قاتل میں آ گئےNadim Balkhi
  25. دل سرابوں سے گزر کر شاد رکھدشت میں دریا کا منظر یاد رکھNadim Balkhi
  26. دوست کوئی جو معتبر نہ رہااعتبار اپنے آپ پر نہ رہاNadim Balkhi
  27. دیکھی ہے جو پت جھڑ کی فضا سوچ رہا ہوںانجام یہی ہوگا مرا سوچ رہا ہوںNadim Balkhi
  28. راہ جس نے چلی غافلوں کی طرحقتل بھی وہ ہوا بزدلوں کی طرحNadim Balkhi
  29. عقل پر اس کی گر پڑا پتھرجس نے پارس کو کہہ دیا پتھرNadim Balkhi
  30. مجھے جو دور سے لگتا تھا آب کا دریاگیا قریب تو پایا سراب کا دریاNadim Balkhi
  31. ہم نے دیکھے عجب عجب گونگےتھی زباں تو مگر تھے سب گونگےNadim Balkhi
  32. وضع داری کو اوڑھ کر اکثرآدمی بے لباس لگتا ہےNadim Balkhi
  33. یاد جس کی لیے ہے دل نادمؔدور ہو کر بھی پاس لگتا ہےNadim Balkhi
  34. اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کاآج تک پاک ہے دامن مری بینائی کاQadr Oraizi
  35. تیغ جفا کو تیری نہیں امتحاں سے ربطمیری سبک سری کو ہے بار گراں سے ربطQadr Oraizi
  36. جو چشم شوق کی حالت سے آشکار نہ تھاوہ انتظار بہ عنوان انتظار نہ تھاQadr Oraizi
  37. خاموش اس طرح سے نہ جل کر دھواں اٹھااے شمع کچھ تو بول کبھی تو زباں اٹھاQadr Oraizi
  38. دست جنوں نے مجھ کو پریشاں بنا دیاجو چیز ہاتھ آئی گریباں بنا دیاQadr Oraizi
  39. رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیامنظر قوس قزح چاک گریباں ہو گیاQadr Oraizi
  40. ضبط کر آہ بار بار نہ کرغم الفت کو شرمسار نہ کرQadr Oraizi
  41. کوہ غم سے کیا غرض فکر بتاں سے کیا غرضاے سبک روئی تجھے بار گراں سے کیا غرضQadr Oraizi
  42. کیوں خوش ہے اس کا خط جو ترے نام آ گیاکیا آسمان سے کوئی پیغام آ گیاQadr Oraizi
  43. مشکل ہے پتہ چلنا قصوں سے محبت کااندازہ مصیبت میں ہوتا ہے مصیبت کاQadr Oraizi
  44. وہ بظاہر کبھی عیاں نہ ہواپھر بھی مشتاق سے نہاں نہ ہواQadr Oraizi
  45. ہے عام ازل ہی سے فیضان محبت کاامکان مسلم ہے امکان محبت کاQadr Oraizi
  46. آتا نہیں ہے اب کسی دم ساز کا خیالدل میں بسا گیا وہ اس انداز کا خیالRabab Rashidi
  47. اپنی خوش ذوقی پہ اک الزام ہو کر رہ گئےنام والے تھے برائے نام ہو کر رہ گئےRabab Rashidi
  48. تجھ سے جب تک اس طرح اپنی شناسائی نہ تھیاپنے گھر جیسی تو صحرا میں بھی تنہائی نہ تھیRabab Rashidi
  49. تیز ہوائیں ہیں غم کیخیر مناؤ موسم کیRabab Rashidi
  50. جب بھی گزرے ہوئے لمحات کو دہراتے ہیںہم خود اپنے ہی خیالوں میں الجھ جاتے ہیںRabab Rashidi