تیز ہوائیں ہیں غم کی
Rabab Rashidiتیز ہوائیں ہیں غم کی
خیر مناؤ موسم کی
جب ہم نے کچھ غور کیا
دل میں ایک کرن چمکی
آج بھی ہے اپنی ہی جگہ
بات حیات برہم کی
پائیں بھی تو کیا تعبیر
ہم اک خواب مبہم کی
پھول سے ہنستے چہرے ہیں
رونق باغ عالم کی
تم بھی وہی ہو ہم بھی وہی
کوشش سب نے پیہم کی
ذوق سفر ہے حسن نظر
کچھ بھی کہو پیچ و خم کی
کیسے ہو حساس ربابؔ
اب کیا صورت ہے غم کی