سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھی

Nabi Bakhsh Nayab

سناتا کیا میں اسے طاقت بیان نہ تھی

کچھ ایسی ویسی محبت کی داستان نہ تھی

ترے سوا کوئی اس گھر میں کس طرح آتا

دل فگار تھا کنجرے کی یہ دکان نہ تھی

وہ سنگ کعبہ جو اک بوسہ گاہ عالم ہے

کہیں تمہارے ہی گھر کی تو آستان نہ تھی

جناں میں دیکھ کے حوریں تو کیوں نہ یاد آتا

کہ تیری سی وہ ملاحت وہ آن بان نہ تھی

وہ بوسہ تیغ کا پھر بار بار کیوں لیتا

اگر لہو میں مرے بوئے زعفران نہ تھی

سب ایک آن میں بے پردہ راز ہو جاتا

تو شکر کر کہ ہمیں خوئے امتحان نہ تھی

غضب کہ کس طرح اس بت نے مار ڈالا مجھے

کماں میں تیر نہ تھا ہاتھ میں کمان نہ تھی

کہیں جنوں تو نہیں ہو گیا تجھے نایابؔ

تو اس کے پیچھے جو دوڑا یہ تیری شان نہ تھی