Poetry
Poet
Meter
- ایک دنیا بنا گئی مٹیجس گھڑی روح پا گئی مٹیLaiq Aajiz
- بادشاہی ہو کہ دریوزہ گری کا موسمبھولتا ہی نہیں وہ ہم سفری کا موسمLaiq Aajiz
- ترک جام و سبو نہ کر پائےاس لیے ہم وضو نہ کر پائےLaiq Aajiz
- جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورجاس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورجLaiq Aajiz
- دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیالوگ کیوں برہم ہیں کیا شیشے کو پتھر کہہ دیاLaiq Aajiz
- زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانیکسی کا حکم ہوا تو ٹھہر گیا پانیLaiq Aajiz
- سجا رہے گا اندھیروں سے ہی کھنڈر میرااک ایک کر کے ہوا ختم اب سفر میراLaiq Aajiz
- صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنااسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرناLaiq Aajiz
- طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہوتم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہوLaiq Aajiz
- مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہاپہلے جو اضطراب تھا نہ رہاLaiq Aajiz
- مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورتمری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورتLaiq Aajiz
- اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیااے جذبۂ دل تو بھی کسی کام نہ آیامیر تسکین دہلوی
- بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیںسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیںمیر تسکین دہلوی
- تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھےہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھےمیر تسکین دہلوی
- دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہےہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہےمیر تسکین دہلوی
- رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیامیرے آتے ہی یہاں ہنگامہ برپا ہو گیامیر تسکین دہلوی
- فرق کچھ تو چاہیئے اغیار سےسر الفت ہم چھپائیں یار سےمیر تسکین دہلوی
- کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھےخاک میں دل کی کدورت نے دیا داب مجھےمیر تسکین دہلوی
- کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میںچھوڑوں نہ عمر رفتہ گر آ جائے خواب میںمیر تسکین دہلوی
- گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتےتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتےمیر تسکین دہلوی
- نام لو گے جو یاں سے جانے کاآپ میں پھر نہیں میں آنے کامیر تسکین دہلوی
- ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکروہ پہلی وصل کی شب شوخیاں تھیں ہاں کیونکرمیر تسکین دہلوی
- تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوںگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھےمیر تسکین دہلوی
- باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کےکچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کےمردان علی خاں رانا
- پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سےچلا دو گام بھی جب وہ ادا سےمردان علی خاں رانا
- تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالیکیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالیمردان علی خاں رانا
- جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہےقطرۂ اشک دیدۂ تر ہےمردان علی خاں رانا
- کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھےہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھےمردان علی خاں رانا
- گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیاگیا شباب تو اب موسم خضاب آیامردان علی خاں رانا
- گئی فصل بہار گلشن سےبلبلوں اڑ چلو نشیمن سےمردان علی خاں رانا
- لے قضا احسان تجھ پر کر چلےہم ترے آنے سے پہلے مر چلےمردان علی خاں رانا
- واہ کیا حسن کیسا جوبن ہےکیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہےمردان علی خاں رانا
- وہ مسیحا قبر پر آتا رہامیں موے پر روز جی جاتا رہامردان علی خاں رانا
- کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کوموت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کومردان علی خاں رانا
- ہجر جاناں میں جی سے جانا ہےبس یہی موت کا بہانہ ہےمردان علی خاں رانا
- تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاںہم ہیں کنج غم ہے یاں اور جان سے بیزاریاںمرزا علی لطف
- تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایکزاغ زشت اور طوطئ شکر شکن دونوں ہیں ایکمرزا علی لطف
- جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئےدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئےمرزا علی لطف
- خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہےاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہےمرزا علی لطف
- دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کیان سے ہیں مسدود راہیں نامہ و پیغام کیمرزا علی لطف
- سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کےآخرش خاک ہوئے خاک میں سب رل مل کےمرزا علی لطف
- شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگپھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگمرزا علی لطف
- کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیاخم مرے منہ سے لگا دے جو سبو ٹوٹ گیامرزا علی لطف
- نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہےیہ غیر ہے تو یہاں یار کون آپ کا ہےمرزا علی لطف
- وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھیصاف کل ساختگی اس کی ہر اک بات میں تھیمرزا علی لطف
- جو کوئی کہ آفت نہانی مانگےاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگےمرزا علی لطف
- دے جس کو شراب ناب پانی کا مزاکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزامرزا علی لطف
- اک کافر مغرور دل آرام ہے میراکہتے ہیں جسے کفر وہ اسلام ہے میراNabi Bakhsh Nayab
- اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کرتو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کرNabi Bakhsh Nayab
- پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیاآیا نہ یار پاس مرا خواب بھی گیاNabi Bakhsh Nayab