Poetry

Poet
Meter
  1. ایک دنیا بنا گئی مٹیجس گھڑی روح پا گئی مٹیLaiq Aajiz
  2. بادشاہی ہو کہ دریوزہ گری کا موسمبھولتا ہی نہیں وہ ہم سفری کا موسمLaiq Aajiz
  3. ترک جام و سبو نہ کر پائےاس لیے ہم وضو نہ کر پائےLaiq Aajiz
  4. جب سے مری تقدیر کا ڈوبا سورجاس روز سے اب تک نہیں دیکھا سورجLaiq Aajiz
  5. دشمنوں کو دوست بھائی کو ستم گر کہہ دیالوگ کیوں برہم ہیں کیا شیشے کو پتھر کہہ دیاLaiq Aajiz
  6. زمانہ ڈھونڈ رہا تھا کدھر گیا پانیکسی کا حکم ہوا تو ٹھہر گیا پانیLaiq Aajiz
  7. سجا رہے گا اندھیروں سے ہی کھنڈر میرااک ایک کر کے ہوا ختم اب سفر میراLaiq Aajiz
  8. صبا یہ بارگہہ حسن میں خبر کرنااسے تو چاہئے ذروں کو بھی قمر کرناLaiq Aajiz
  9. طنز کے تیر مری سمت چلاتے کیوں ہوتم اگر دوست ہو تو دل کو دکھاتے کیوں ہوLaiq Aajiz
  10. مجھ میں اس میں حجاب تھا نہ رہاپہلے جو اضطراب تھا نہ رہاLaiq Aajiz
  11. مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورتمری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورتLaiq Aajiz
  12. اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیااے جذبۂ دل تو بھی کسی کام نہ آیامیر تسکین دہلوی
  13. بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیںسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیںمیر تسکین دہلوی
  14. تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھےہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھےمیر تسکین دہلوی
  15. دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہےہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہےمیر تسکین دہلوی
  16. رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیامیرے آتے ہی یہاں ہنگامہ برپا ہو گیامیر تسکین دہلوی
  17. فرق کچھ تو چاہیئے اغیار سےسر الفت ہم چھپائیں یار سےمیر تسکین دہلوی
  18. کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھےخاک میں دل کی کدورت نے دیا داب مجھےمیر تسکین دہلوی
  19. کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میںچھوڑوں نہ عمر رفتہ گر آ جائے خواب میںمیر تسکین دہلوی
  20. گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتےتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتےمیر تسکین دہلوی
  21. نام لو گے جو یاں سے جانے کاآپ میں پھر نہیں میں آنے کامیر تسکین دہلوی
  22. ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکروہ پہلی وصل کی شب شوخیاں تھیں ہاں کیونکرمیر تسکین دہلوی
  23. تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوںگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھےمیر تسکین دہلوی
  24. باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کےکچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کےمردان علی خاں رانا
  25. پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سےچلا دو گام بھی جب وہ ادا سےمردان علی خاں رانا
  26. تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالیکیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالیمردان علی خاں رانا
  27. جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہےقطرۂ اشک دیدۂ تر ہےمردان علی خاں رانا
  28. کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھےہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھےمردان علی خاں رانا
  29. گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیاگیا شباب تو اب موسم خضاب آیامردان علی خاں رانا
  30. گئی فصل بہار گلشن سےبلبلوں اڑ چلو نشیمن سےمردان علی خاں رانا
  31. لے قضا احسان تجھ پر کر چلےہم ترے آنے سے پہلے مر چلےمردان علی خاں رانا
  32. واہ کیا حسن کیسا جوبن ہےکیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہےمردان علی خاں رانا
  33. وہ مسیحا قبر پر آتا رہامیں موے پر روز جی جاتا رہامردان علی خاں رانا
  34. کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کوموت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کومردان علی خاں رانا
  35. ہجر جاناں میں جی سے جانا ہےبس یہی موت کا بہانہ ہےمردان علی خاں رانا
  36. تم ہو بزم عیش ہے واں اور صحبت داریاںہم ہیں کنج غم ہے یاں اور جان سے بیزاریاںمرزا علی لطف
  37. تیرے آگے یار نو یار کہن دونوں ہیں ایکزاغ زشت اور طوطئ شکر شکن دونوں ہیں ایکمرزا علی لطف
  38. جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئےدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئےمرزا علی لطف
  39. خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہےاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہےمرزا علی لطف
  40. دیکھنا جن صورتوں کا شکل تھی آرام کیان سے ہیں مسدود راہیں نامہ و پیغام کیمرزا علی لطف
  41. سینکڑوں گل ہوئے خوش رنگ چمن میں کھل کےآخرش خاک ہوئے خاک میں سب رل مل کےمرزا علی لطف
  42. شمع نازاں ہے فقط سر سے بھڑک جانے میں آگپھونک دے سارا جہاں ہے گی وہ پروانے میں آگمرزا علی لطف
  43. کس کو بہلاتے ہو شیشہ کا گلو ٹوٹ گیاخم مرے منہ سے لگا دے جو سبو ٹوٹ گیامرزا علی لطف
  44. نہ اتنا کیجے طلب گار کون آپ کا ہےیہ غیر ہے تو یہاں یار کون آپ کا ہےمرزا علی لطف
  45. وہ صفائی کبھی جو ہم سے ملاقات میں تھیصاف کل ساختگی اس کی ہر اک بات میں تھیمرزا علی لطف
  46. جو کوئی کہ آفت نہانی مانگےاور ملک عدم کی کچھ نشانی مانگےمرزا علی لطف
  47. دے جس کو شراب ناب پانی کا مزاکیا خاک ہے اس کو زندگانی کا مزامرزا علی لطف
  48. اک کافر مغرور دل آرام ہے میراکہتے ہیں جسے کفر وہ اسلام ہے میراNabi Bakhsh Nayab
  49. اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کرتو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کرNabi Bakhsh Nayab
  50. پردہ میں سمت غرب کے مہتاب بھی گیاآیا نہ یار پاس مرا خواب بھی گیاNabi Bakhsh Nayab