رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیا

Qadr Oraizi

رنگ ظلم دست وحشت جب نمایاں ہو گیا

منظر قوس قزح چاک گریباں ہو گیا

اوج و پستی دیکھ کر وحشت کی حیراں ہو گیا

جب گریباں دامن اور دامن گریباں ہو گیا

ہو گیا ہے اب تو بے آزار جینا ناگزیر

درد سمجھا تھا جسے ہم نے وہ درماں ہو گیا

پائے وحشت کو مرے بڑھنے نہیں دیتا کبھی

اب تو کوتاہی میں دامن بھی گریباں ہو گیا

ہے تحیر کے لیے جب میری آنکھوں کا وجود

کیا خطا کی دیکھ کر تم کو جو حیراں ہو گیا

ہو گیا ہے چیرہ دستیٔ جنوں سے چاک چاک

اب گریباں واقعی میرا گریباں ہو گیا

ہو گیا ہے قدرؔ سا ضابط پریشاں حال اب

مختصر قصہ یہ اے زلف پریشاں ہو گیا