بیاض کہنہ میں جدت بھری تحریر رکھنی ہے

Nadeem Sirsivi

بیاض کہنہ میں جدت بھری تحریر رکھنی ہے

پرانی نیام میں یعنی نئی شمشیر رکھنی ہے

فصیل فکر سے گرتا ہوا مصرع اٹھانا ہے

سرہانے اب مجھے ہر دم کتاب میرؔ رکھنی ہے

مجھے تا عمر رنج قید کو محسوس کرنا ہے

مجھے تا عمر اپنے پاس یہ زنجیر رکھنی ہے

سجاؤ خواب کوئی رات کی بے رنگ آنکھوں میں

اگر باقی دلوں میں خواہش تعبیر رکھنی ہے

خودی سے بے خودی کی جنگ ہے گویا مجھے اس پل

مقابل اپنے ہی اپنی کوئی تصویر رکھنی ہے

ہمیں اپنے لہو سے دشت اک گلزار کرنا ہے

ہمیں تا حشر زندہ عظمت تکبیر رکھنی ہے

اسے دنیا کے ہر غم سے مکمل پاک تو کر لو

اگر اس دل میں بنیاد غم شبیر رکھنی ہے