عرصۂ خواب سے اٹھ حلقۂ تعبیر میں آ

Nadeem Sirsivi

عرصۂ خواب سے اٹھ حلقۂ تعبیر میں آ

گمشدہ رعب جنوں کاسۂ تشہیر میں آ

انتہا مبدائے ہستی کی فنا ہے یا بقا

غور سے دیکھتے ہیں بخت کی تصویر میں آ

اے خرابات تنفر کے پریشان مکیں

گر سکوں چاہتا ہے عشق کی تعمیر میں آ

حدت دید نگاہوں کی عبارت سے نکل

اور یخ بستہ مرے روزن تحریر میں آ

چڑھ کے پھر سر پہ مرے بولے اسیری کا خمار

قید کر لے مجھے پھر زلف کی زنجیر میں آ

عہد ماضی کے خوش آئند بھٹکتے لمحے

وقت آ پہنچا ہے اب حال کی جاگیر میں آ

جل بجھے گرمیٔ انفاس سے دونوں کا وجود

گھولنے خود کو مرے قرب کی تاثیر میں آ

لذت وصل کو حاصل ہو زمیں کی جنت

مجھ سے ملنے کے لئے وادئ کشمیر میں آ

زیر پا رکھ کے سبھی عکس فسون تقدیر

پھر جواں ہونے کو گہوارۂ تدبیر میں آ

اے خزاں زاد اگر چاہتا ہے رزق بہار

دامن زیست لئے روضۂ شبیر میں آ

عاجزی کہنے لگی گر ہو بلندی کی طلب

دل جھکا دائرۂ نعرۂ تکبیر میں آ

دیا اگتے ہوئے سورج نے یہ پیغام ندیمؔ

ان اندھیروں سے نکل خیمۂ تنویر میں آ