لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنے

Nabi Bakhsh Nayab

لے گیا دل کون میرا سو بشر کے سامنے

کس کی صورت پھرتی ہے یا رب نظر کے سامنے

امتحان حسن آئینے میں لیتے ہیں مدام

رکھ کے وہ تصویر یوسف کو نظر کے سامنے

دور آبادی سے رکھنا اپنے دیوانے کو یار

گھر نہ آ جائے کسی کا چشم تر کے سامنے

خط کہاں وہ انتظار خط کی بھی لذت گئی

حیف کیوں رویا میں اس کے نامہ بر کے سامنے

یار سے نایابؔ اب منہ پھیرنا اچھا نہیں

طوطیٔ دل باندھ شہباز نظر کے سامنے