مستقل محو غم عہد گزشتہ ہونا

Nadeem Sirsivi

مستقل محو غم عہد گزشتہ ہونا

ایسے ہونے سے تو بہتر ہے نہ دل کا ہونا

میں ہوں انساں مجھے انسان ہی رہنے دیجے

مت سکھائیں مجھے ہر گام فرشتہ ہونا

دیکھنی پڑتی ہیں ہر موڑ پہ ادھڑی لاشیں

کتنا دشوار ہے اس شہر میں بینا ہونا

اے مصور ذرا تصویر میں منظر یہ اتار

دو کناروں کو ہے دیکھا گیا یکجا ہونا

ہیں فراہم مجھے بے راہروی کے اسباب

زیب دے گا مجھے آوارۂ دنیا ہونا

بستیاں شہر خموشاں کی طرح ہیں آباد

زندہ لوگوں کو لبھانے لگا مردہ ہونا

خود ہی گر جائے گی زندان بدن کی دیوار

روح افسردہ کو بے چین بھلا کیا ہونا

کھا گیا رونقیں پیوند و مراسم کی ندیمؔ

جنس اخلاص کا بازار میں سستا ہونا