بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میں

Nadim Balkhi

بیگانۂ منزل وہ نہیں راہ گزر میں

جس کے لئے آرام ہے آلام سفر میں

رکھے نہ بصیرت کا توازن جو نظر میں

ڈھونڈے گا فقط عیب ہی وہ کار ہنر میں

گرداب سے لڑتے ہیں جو گرداب کے گھر میں

ساحل انہیں ملتا ہے سمندر کے سفر میں

آئی ہیں تخیل کے دو آبہ سے ہوائیں

طوفاں جو سبک سیر ہے دریائے ہنر میں

یوں درد کا سورج مری رگ رگ میں سمایا

گرمیٔ وفا پھیل گئی دل کے کھنڈر میں

خلوت کو تری یاد کی پروائی جو بھائی

پھولے ہوئے گلزار کا منظر ہے نظر میں

ہر جنس گراں قدر کا احساس جنہیں ہے

رکھتے ہیں وہی دل کا لہو دیدۂ تر میں

غنچے جو غم ہجر کے موسم نے کھلائے

مثل گل شاداب مہکتے ہیں جگر میں

وہ لوگ اجالے کے نگہ دار کہاں ہیں

صرف آیا نظر داغ جنہیں روئے قمر میں

اے کشتۂ امید نہ جا پاس تو اس کے

پتوں کے سوا کچھ بھی نہیں بانجھ شجر میں

واللہ محبت کا بھرم ہے تو انہیں سے

بد نام زمانہ جو ہیں دنیا کی نظر میں

آشفتہ مزاجی کا بھی ساماں اسے کہیے

وہ آتش خاموش جو خفتہ ہے شرر میں

کچھ گرمیٔ بازار وفا ہے تو انہیں سے

سودائے جنوں خیز لئے جو بھی ہیں سر میں

ہشیار و خبردار سر راہ مسافر

آسیب کا خطرہ بھی ہے پریوں کے نگر میں

ظلمت ہی نہیں خانۂ افلاس میں نادمؔ

اخلاص و شرافت کا اجالا بھی ہے گھر میں