راہ جس نے چلی غافلوں کی طرح
Nadim Balkhiراہ جس نے چلی غافلوں کی طرح
قتل بھی وہ ہوا بزدلوں کی طرح
تیری یادیں تصور کو جب مل گئیں
میری خلوت سجی محفلوں کی طرح
ڈھونڈتے ہیں سرابوں میں کیا تشنہ لب
دشت ہوتا نہیں ساحلوں کی طرح
موم بن کر وہ ہرگز پگھلتے نہیں
سختیوں میں جو دل ہیں سلوں کی طرح
روغن اخلاص کا رنگ لانے لگا
میں نچوڑا گیا جب تلوں کی طرح
یہ ہے سچ تیری فرقت نے مہلت نہ دی
شب گزاری مگر واصلوں کی طرح
سر میں سودائے سر ہو اگر جان من
مشکلیں بھی نہیں مشکلوں کی طرح
کچھ جواب اہل دل کے سوالوں کا دیں
بات کرتے ہیں جو عاقلوں کی طرح
قربت ان کی فریب سفر دے گئی
دور سے جو لگیں منزلوں کی طرح
اک مقدس صحیفہ مری شاعری
جس کو پڑھتے ہو تم ناولوں کی طرح
میرے افکار نادمؔ تن آساں نہیں
یوں تو لگتا ہوں میں کاہلوں کی طرح