وہ بظاہر کبھی عیاں نہ ہوا
Qadr Oraiziوہ بظاہر کبھی عیاں نہ ہوا
پھر بھی مشتاق سے نہاں نہ ہوا
آج کیوں میرا امتحاں نہ ہوا
برق کی نذر آشیاں نہ ہوا
نہ ہوا مجھ پہ مہرباں کوئی
جب تک اللہ مہرباں نہ ہوا
صرف رسوائی کے لیے میری
ذکر میرا کہاں کہاں نہ ہوا
ہر دم آفت میں جاں ہے اس کے لیے
غم ہوا یہ تو آشیاں نہ ہوا
دل کی خاطر ہزار کوشش کی
وہ نہ ہونا تھا مہرباں نہ ہوا
کوئی محبوب اپنے طالب کا
قدرؔ اب تک تو قدرداں نہ ہوا