تپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیں
Nabi Bakhsh Nayabتپ الم کو جگر میں چھپا کے دیکھتے ہیں
ہم آگ اپنے ہی گھر کو لگا کے دیکھتے ہیں
خدا کو دیکھتے ہیں یوں ہم اس کی صورت میں
کہ گویا سامنے اپنے بٹھا کے دیکھتے ہیں
وہ بولے دیکھ کے شیشے میں اپنی صورت کو
شبیہ حضرت یوسف منگا کے دیکھتے ہیں
چرا لیا میرے پہلو سے دل جنہوں نے مرا
اب ان کو دیکھو وہ آنکھیں چرا کے دیکھتے ہیں
نہ پوچھ کوچۂ جاناں کی رہ گزر نایابؔ
ہنوز جذبۂ دل آزما کے دیکھتے ہیں