کیوں خوش ہے اس کا خط جو ترے نام آ گیا

Qadr Oraizi

کیوں خوش ہے اس کا خط جو ترے نام آ گیا

کیا آسمان سے کوئی پیغام آ گیا

تکلیف دور ہو گئی آرام آ گیا

مرنا تڑپ تڑپ کے مرا کام آ گیا

ہونے دو جتنی لغزش مستانہ ہو سکے

آنے دو ٹھوکروں میں اگر جام آ گیا

دنیا میں آنے والے کی تقصیر کچھ نہیں

دنیا سے جانے والے پہ الزام آ گیا

جاتے ہیں وضع دار کہیں چھوڑ کر قفس

آنے دو گر بہار کا پیغام آ گیا

تو بھی تو اے مسافر ہستی قیام کر

منزل پہ آفتاب سر شام آ گیا

سب کچھ تصورات میں آتا ہے اب نظر

اے قدرؔ اپنا ذوق نظر کام آ گیا