دست خلوص جن کی طرف ہم بڑھا گئے
Nadim Balkhiدست خلوص جن کی طرف ہم بڑھا گئے
خنجر بکف وہی صف قاتل میں آ گئے
آنکھوں سے دل کی پیاس جو آنسو بہا گئی
ہر بوند میں ہزار سمندر سما گئے
بادل برس برس کے شب و روز ہر طرف
نیرنگی حیات کی فصلوں کو کھا گئے
پایا فروغ آگ نے بارش کی اوٹ میں
شعلے منافرت کے رفاقت جلا گئے
گہرے سمندروں سے جنہیں تھیں شکایتیں
جوئے کم آب میں وہی کشتی چلا گئے
آنکھوں کو بات چیت کے آداب دے کے ہم
گونگی زباں سے دل کی حکایت سنا گئے
نادمؔ بسنت آئی تو دیکھا یہ کھیت میں
سرسوں کے پھول رائی کا پربت اگا گئے