جب بھی گزرے ہوئے لمحات کو دہراتے ہیں

Rabab Rashidi

جب بھی گزرے ہوئے لمحات کو دہراتے ہیں

ہم خود اپنے ہی خیالوں میں الجھ جاتے ہیں

بھیڑ اتنی ہے کہ نظریں نہیں جمنے پاتیں

اور منظر ہیں کہ تیزی سے بدل جاتے ہیں

کچھ دنوں سے جو یہ چاہا ہے کہ منزل نہ ملے

میری سمت آتے ہوئے حادثے کتراتے ہیں

اس روایت سے بہت جی کا زیاں ہوتا ہے

اب تو ہم پرسش احوال سے گھبراتے ہیں

خود سے اکتائے ہوئے بزم سے کترائے ہوئے

اب مرے ساتھ کئی لوگ نظر آتے ہیں

جو بھی رکھتے ہیں یہاں قوت اظہار نمو

بیج وہ سخت چٹانوں پہ بھی جم جاتے ہیں

کبھی تنہا نہیں آتے ہیں پرانے لمحے

کتنے ہی پھولوں کی ہمراہ مہک لاتے ہیں