آتا نہیں ہے اب کسی دم ساز کا خیال

Rabab Rashidi

آتا نہیں ہے اب کسی دم ساز کا خیال

دل میں بسا گیا وہ اس انداز کا خیال

اکثر وہ اس کی چشم فسوں ساز کا خیال

تا دیر پھر وہ حسرت پرواز کا خیال

احساس درد و غم سے زیادہ ہے معتبر

اس دل نواز صاحب اعجاز کا خیال

کیا جانے فرط شوق میں کس دم پکار لے

اب ہم ہیں اور دوست کی آواز کا خیال

تاریکیوں کی سمت نہ جانے دیا کبھی

خورشید بن گیا نگہ ناز کا خیال

وہ خود بلندیوں کی حدیں توڑتے نہیں

ان کو ہے میری طاقت پرواز کا خیال

جی چاہتا ہے جائیے پھر راہ شوق میں

آنے لگا ہے پھر کسی ہم راز کا خیال

توقیر پائی جس کے سبب سے ربابؔ نے

رکھا نہیں اس اپنی تگ و تاز کا خیال