ریاضتوں کی تپش میں رہ کر پگھل رہا ہوں
Nadeem Sirsiviریاضتوں کی تپش میں رہ کر پگھل رہا ہوں
یہ بات سچ ہے میں دھیرے دھیرے بدل رہا ہوں
علامت خاک زادگی ہو مزید روشن
بس اس لئے خاک اپنے چہرے پہ مل رہا ہوں
اتار کر قرض زندگانی کا رفتہ رفتہ
نفس کے وحشت کدے سے باہر نکل رہا ہوں
انا پرستوں کے بیچ اپنی انا کے سر کو
ہوں منکسر اس لئے مسلسل کچل رہا ہوں
دعائیں ماں کی قدم قدم سائباں بنی ہیں
ندیمؔ گر گر کے اس لئے میں سنبھل رہا ہوں