اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کا

Qadr Oraizi

اس پہ دھبہ نہ لگا نام کو رسوائی کا

آج تک پاک ہے دامن مری بینائی کا

یاد ہے کس کو سبب اس کی شناسائی کا

وہ بھی اک ہوگا کرشمہ اسی بینائی کا

گرمیٔ ذوق نظارہ سے نہیں اشک رواں

اصل میں ہے یہ پسینہ مری بینائی کا

ٹھوکروں سے مری نظروں کو الٰہی تو بچا

اب قدم بڑھنے لگا ہے مری بینائی کا

ہوں گے طے بعد تقرب کے مراحل سارے

دیکھ لینا ہی بڑا کام ہے بینائی کا

اس میں ہر وقت بھری رہتی ہے نظروں کی شراب

آنکھ پیمانہ ہے مے خانۂ بینائی کا

آ گئی چشم کرم حضرت زیرک کی جو یاد

قدرؔ نے قید کیا قافیہ بینائی کا