اپنی خوش ذوقی پہ اک الزام ہو کر رہ گئے
Rabab Rashidiاپنی خوش ذوقی پہ اک الزام ہو کر رہ گئے
نام والے تھے برائے نام ہو کر رہ گئے
آئنوں میں کوئی واضح عکس کیوں آنے لگا
جب ہمیں من جملۂ اوہام ہو کر رہ گئے
کتنے سائے زندگی کی اک علامت بن گئے
کتنے جذبے ذہن کا ابہام ہو کر رہ گئے
ہم بھی کیا کہتے کسی سے لوگ کیا پہچانتے
تیرے گھر کی صبح تھے اور شام ہو کر رہ گئے
راہ میں ٹوٹے ہوئے پر اڑنے والوں کے لئے
کیسے کیسے حلقہ ہائے دام ہو کر رہ گئے
عمر بھر پرچھائیاں اپنے تعاقب میں رہیں
جب حقائق سے بچے بدنام ہو کر رہ گئے
ان کے دامن سے ذرا سا فاصلہ کیا بڑھ گیا
ہم رہین گردش ایام ہو کر رہ گئے