جس کو وہ نقش پا نہیں ملتا
Nabi Bakhsh Nayabجس کو وہ نقش پا نہیں ملتا
ذرہ بھی خاک کا نہیں ملتا
لوگ تو روتے ہیں غم دل کو
ہم کو دل کا پتا نہیں ملتا
کس نجومی سے پوچھئے جا کر
یار ملتا ہے یا نہیں ملتا
کیوں مرے پاس آئے وہ جب تک
جسم سے سر جدا نہیں ملتا
دل کے دو حرف وہ بھی آپس میں
ایک سے دوسرا نہیں ملتا
مرنا ہے خواب زیست کی تعبیر
خواب میں جو ملا نہیں ملتا
کر چکے سیر بھی دو عالم کی
ایک بھی آپ سا نہیں ملتا
کس سرا میں مسافر آ اترا
زندگی کا مزا نہیں ملتا
جس نے دشمن بھلا دئے سارے
ہم کو وہ آشنا نہیں ملتا
جو در کار ساز تک پہنچے
اس کو نایابؔ کیا نہیں ملتا