عقل پر اس کی گر پڑا پتھر

Nadim Balkhi

عقل پر اس کی گر پڑا پتھر

جس نے پارس کو کہہ دیا پتھر

قصر شیشے کا جب ہوا تعمیر

ہر طرف سے برس گیا پتھر

سنگ مرمر وہ کیسے بن سکتا

فطرتاً جو سیاہ تھا پتھر

وہ بتوں کو خدا نہ کیوں سمجھے

کام جس کا ہے پوجنا پتھر

دل کو دل سے گزند یوں پہنچی

ایک شیشہ تھا دوسرا پتھر

آئنے کا نہیں محافظ وہ

کام جس کا ہے مارنا پتھر

موم ہوتا نہیں کبھی نادمؔ

خوش نما ہو کہ بد نما پتھر